جھوٹ کا دفتر (نظم)
Poet: N A D E E M M U R A D ندیم مراد By: ندیم مراد N A D E E M M U R A D, UMTATA RSAلفظ اک دوجے کی جھولی پکڑے
یوں چلے آتے ہیں
جیسے زنجیر کوئی
کر کے ان لفظوں کو آگے پیچھے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
میرے اطراف میں جو ہوتا ہے
اور جو میں دیکھتا ہوں
اس میں کچھ ردو بدل کرتے ہوئے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
جب کبھی کوئی خوشی ملتی ہے
یا کسی اور کو خوش دیکھتا ہوں
گنگناتے ہوئے کچھ
زعفراں زار ہنسی صفحہ ء قرطاس پہ لاتے لاتے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
یا کبھی بھولی ہوئی یاد کوئی
دل کو تڑپاتی ہے
چھپ کے تنہائی میں روتے روتے
اور لفظوں میں بدلتے ہوئے آنسو اپنے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
یا کبھی چوٹ کوئی کھاتا ہے دل
اور لگتا ہے کہ سینے میں ہو گہرا کوئی زخم
اور اس زخم سے رس رس کے لہو بہتا ہو
دل کے نوحے کےوہ ٹوٹے ہوئے دو اک الفاظ
ریت پر انگلی سے لکھتے لکھتے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
فلسفے جتنے پڑھے ہیں میں نے
اپنے جزبات کو پرکھوں ان سے
جب نئی بات سجھائی دے کوئی
اس کو ترتیب میں لاتے لاتے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
یا کبھی حسن کوئی آنکھوں کو بھا جاتا ہے
اور پلکوں کو جھپکنا بھی نہیں رہتا یاد
ہاتھ کردیتے ہیں خود انگلیاں زخمی اپنی
سانسیں خود گاتی ہیں نغمات ِ نشیب اور فراز
اور ان نغموں کو لفظوں کی زباں دیتے ہوئے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
ہر زمانے کے الگ ہیں اطوار
ہر زمانے کی نئی ہیں سوچیں
جب مرے دل پہ گزرتی ہے کچھ
اور کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے
اپنے اس دورکو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے
اپنے انداز سے کہتے کہتے
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
یا کہیں ظلم کبھی ہوتا ہوا دیکھتا ہوں
حکمرانوں سے چھپائے نہیں جب چھپتے ہزار
آستینوں پہ لہو کے دھبے
جی یہ کہتا ہے کہ خاموش رہوں
اور دھڑکتا ہوا دل، ٹوٹی ہوئی انگلیاں، بوجھل پلکیں
کچھ نہیں کہتی مگر
کنج ِ تنہائی میں خامے کی سسکتی صر صر
چند مصرعے جو بنا لیتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
٭٭٭
اور کبھی کچھ بھی نہیں ہوتا سچ
لفظ کوئی بھی زباں پر نہیں چڑھنے پاتا
تیرگی ہوتی ہے اطراف مرے
اور نہ دکھتی ہے حسینہ کوئی
کوئی دکھ ،کوئی خوشی ، کوئی یاد
اور ہوتا نہیں کوئی جزبہ
اور کچھ دل پہ گزرتا بھی نہیں
اور کانوں تلک آتی نہیں مظلوم کے رونے کی صدا
آہ و بقا
کھول کر جھوٹ کا دفتر میں وہ پُل باندھتا ہوں
سب سمجھتے ہیں کہ میں شاعر ہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






