جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiچھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے
دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے
شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
خواب جو بھی تھے دیکھے تمہارے میں نے
سب سے کرنا پڑا ہے کنارہ مجھے
لاکھ اب وہ کرے بات اقرار کی
ساتھ اس کا نہیں اب گوارا مجھے
ہم نے کی ہے محبت غلامی نہیں
کیوں سمجھتے ہو تم اپنا کارہ مجھے
کوئی شکوہ نہیں ہے مجھے غیر سے
اپنوں کی ہی عنایت نے مارا مجھے
دو قدم ہی چلا ہوگا وہ شب ہجر
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
جا رہا ہوں ترے شہر سے روٹھ کر
اب نہ دیکھو گے تم بھی دوبارہ مجھے
میں تو ہوں اجنبی اس نئے شہر میں
نام سے میرے کس نے پکارا مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







