جھیل سی آنکھوں کی ادا بہکاتی ہے مجھے
Poet: Faisal Mahmood By: Faisal Mahmood Siddiqui, Karachiجھیل سی آنکھوں کی ادا بہکاتی ہے مجھے
رات ساری یاد کی دہلیز پر جگاتی ہے مجھے
یوں تو پی لیتا ہوں دو چند شرابیں مگر
تیری نگاہ سے پی لوں تو تا دیر مہکاتی ہے مجھے
شبِ تنہائی کے پُرہیبت سناٹے میں اکثر
تیری یاد کی کہکشاں بہت ستاتی ہے مجھے
اظہارِ محبت کے لئے یہ اندازِ بیاں ہے اُس کا
سروں کے اتار چڑھاؤ میں گنگناتی ہے مجھے
روٹھ نہ جاؤں کہیں میں اُس مہ جبیں سے فیصل
بارہا اپنی چاہت کی شدت جتاتی ہے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







