جہاں برسنا ہے اس نے وہیں پہ برسے گا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامری وفاؤں کا اچھا صلہ رہا ہے کوئی
کچھ اپنی زندگی بھی سانحہ رہا ہے کوئی
کہیں پہ درز ہے اور نہ ہی در کھلا کوئی
شدید حبس میں تازہ ہوا رہا ہے کوئی
جہاں برسنا ہے اس نے وہیں پہ برسے گا
لبوں کی پیاس بجھانے گھٹا رہا ہے کوئی
یہ میری سادہ دلی تھی کہ پیار کر بیٹھی
حسین خوابوں سے آخر نوا رہا ہے کوئی
قریب پا کے تمھیں تو بدل گئی دنیا
لگی یوں جھومتی گاتی ہوا رہا ہے کوئی
بہکتی سانسیں مچلتی ہوئی تمنائیں
نہ سونے دیں گی مجھے فاصلہ رہا ہے کوئی
مرے خیالوں میں پھر جلترنگ بجتی ہے
وہ آدھی رات کو جب بھی صدا رہا ہے کوئی
ہے احترام بھی دل میں مرے ، محبت بھی
پھر اپنے در سے بتا کیوں صدا رہا ہے کوئی
خبر نہ ہو گی اسے میرے پیار کی وشمہ
میں کہہ سکوں گی نہ اس کوصدا رہا ہے کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






