جہیز
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiآج اک غریبہ کی پھول جیسی دختر کی
بات ھو گئی پکی
بات کیا ہوئی ‘ دل پر اک پہاڑ ٹوٹا ہے
ساتھ اک لفافہ ہے جس میں ایک کاغذ پر
باشعور بستی کے بے شعور لوگوں نے
اپنی ذہنی پستی کو ثبت کر دیا اس پر
اپنی خواہش و لذت کے سکون کی خاطر
اک غریب اور نادار باپ کو جھنجھوڑا ھے
اس کو اس کی رحمت کی اک سزا سنادی ھے
جانے کس طرح اس نے جوڑ جوڑ کر رکھا
ایک ایک پیسے کو
پر محال ھے ان میں خواہشات کی تکمیل
ذہن کی پریشانی روح کی گرانی ھے
یا خدا یہ دنیا کی کس طرح کی خوشیاں ہیں
ایک گھر میں فرحت ھے
ایک گھر میں غربت ھے
ایک دل کہ شاداں ھے
ایک دل پریشاں ھے
کیا یہی زمانے کے عدل کا تقاضہ ھے
اک غریب والد نے اپنا دامنِ عزت
تار تار ہونے سے اس طرح بچایا ھے
سود جیسی لعنت کا طوق ڈال کر اس نے
اپنی لاٍڈلی اپنی پھول جیسی بیٹی کا
آج گھر بسایا ھے
پروقار سی محفل میں آج جتنی خلقت ھے
سب مگن ہیں خوشیوں میں
یوں تو ظاہری سب نے اس کو دی مبارک باد
بلیقیں کہ اس کا بھی دل کہ ھو گیا ھو شاد
باشعور بستی کے باشعور لوگوں میں
کون جان سکتا ھے
اس کے بوڑھے کاندھوں پر
ایک ذمہ داری کا اور بوجھ باقی ھے
بارِ قرض کی صورت
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






