جی میں آتاہے کہ تعویزبنالیں تم کو
Poet: zee By: Muhammad Zubair, Multanباندھ لیں ہاتھ توسینے پہ سجالیں تم کو
جی میں آتاہے کہ تعویزبنالیں تم کو
اس قدرٹوٹ کے تم پرہمیں پیارآتاہے
اپنی بانہوںمیں بھریںمارہی ڈالیں تم کو
ہے تمہارے لئے کچھ ایسی عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوںمیں دعاﺅںمیں اٹھالیں تم کو
جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو
ورنہ مرجائیں ابھی مرکے منالیں تم کو
اب تو اب ایک ہی خواہش ہے کسی موڑپہ تم
ہم کوبکھرے ہوئے مل جاﺅتو سنبھالیں تم کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






