جی یہ چاہتا ہے میرا
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiجی یہ چاہتا ہے میرا
چھوڑکر دنیا کی نگری
کوئی نئی دنیا تلاش کروں
راز خود پر فاش کروں
جو کبھی نہ کہہ پائی
وجود کی گہرائی میں
ٹھہرے پانی کی طرح
نہ جانے کب سے ہیں
مگر جب سے ہیں
میں پریشان ہوں
جی یہ چاہتا ہے میرا
تسخیر ذات کی خاطر
تیاگ دوں ہر اک رشتہ
جو باظاہر ہے فرشتہ
حقائق کے انجام سے
جو کوئی دیکھ نہیں پاتا
مگر پریشان رہتا ہے
ہر کوئی جو مسافر ہے
اس خیالی دنیا کا
نہ جانے کیا ہو جائے گا
اگر کھل گئی میری چاہیتیں
میں بھی یہ سوچتی ہوں
کیا گزرے گی اُن پر
جو مجھے سونپ دیے گئے
مگر میرے اپنے ہیں وہ
میں اپنی ذات میں تنہا
اپنے وجود سے لڑ کر
نبھائے جا رہی ہوں جو
اقدار زندگی ہیں میری
جی یہ چاہتا ہے میرا
کہ سونپ دوں ہر رشتہ کو
وجود اس کا میں کامل
جو مجھ میں ہے شامل
کسی نوکیلے خنجر کی طرح
جی یہ چاہتا ہے میرا
کہہ دوں چیخ چیخ کر
میں بھی ہوں یہ جان لو
نہ تھونپو خود کو مجھ پر
نہ اپنی ذات کو مجھ پر
مسلط کر دو ایسے
کہ سانس بھی نہ لے پاوں
جیتے جی ہی مر جاوں
جی یہ چاہتا ہے میرا
زندگی کی تھکن کو اب
جاننے والے میرے سب
جان لیں تو اچھا ہے
جی یہ چاہتا ہے میرا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






