جیسے شاہین دکھوں کی فائل ہو
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjnتم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے درد کی گہرائی ہو
جیسے روح تک پتھرائی ہو
جیسے ہر سانس گھبرائی ہو
جیسے درد میرا شیدائی ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بن ساز کے گیت ہو
جیسے بنا روگ کے پریت ہو
جیسے روٹھا روٹھا نصیب ہو
جیسے ہر شخص رقیب ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بنا مفہوم کے لفظ ہو
جیسے بنا عروض کے غزل ہو
جیسے بنا سوز کے شاعری ہو
جیسے بند پڑی ڈائری ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بنا جذ بات کے بات ہو
جیسے بن باراتی بارات ہو
جیسے بن بادل برسات ہو
جیسے الجھی بکھری بات ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جیسے بنا جھنکار کے پائل ہو
جیسے دل زخمی گھائل ہو
جیسے راہ میں پتھر حائل ہو
جیسے شاہین دکھوں کی فائل ہو
تم کیا جانو تم کیا سمجھو
تم بن کیا ہوں میں
جیسے زندگی سے نا آشنا ہوں میں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






