جیسے گلدان میں گل چن کے سجا کر رکھوں
Poet: Ghani Ur Rehman Anjum By: Ghani Ur Rehman Anjum, islamabadجیسے گلدان میں گل چن کے سجا کر رکھوں
کوئی چہرہ ہو جو چہرے سے لگا کر رکھوں
جتنا سمجھوں میں تجھے اور نہ سمجھے کوئی
تیری ہر بات زمانے سے چھپا کر رکھوں
بڑی مشکل سے ملاقات کا لمحہ آیا
کیوں ملاقات کو پھر کل پے اٹھا کر رکھوں
دشمنی کا بھی زمانے سے سبب تم ہی تھے
تم کہو اب تو زمانے سے بنا کر رکھوں
میں ہی میں دیکھوں تجھے اور نہ دیکھے کوئی
ساری دنیا سے تجھے دل میں چھپا کر رکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






