جینے کا نشہ
Poet: By: Hukhan, karachiکچھ اترتا رہاکچھ چڑھتا رہا
اے زندگی! جینے کا نشہ ہمیشہ رہا
زمانہ بھی عجیب ہے کبھی خوشی کبھی غم دیتارہا
راہ میں کوئی ملتارہا کوئی بچھڑتا رہا
کبھی دل مسکرایا کبھی روتا رہا
رنگ تو بہت ہیں کوئی چڑھتارہا کوئی اترتا رہا
دنیاِ آب میں کبھی ڈوبتا کبھی ابھرتا رہا
کبھی ملی محفل کبھی بس تنہا رہا
جنگلِ آرزو میں بھٹکتا رہا
کبھی پھیلا لیا خود کوکبھی سمٹارہا
خان بس اک کام کیا چلتارہا
ہاں بس چلتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






