حالات زندگی سے ہیں مجبور کیا کریں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

حالات زندگی سے ہیں مجبور کیا کریں
زخم جگر بھی ہو گئے ناسور کیا کریں

جن دوستوں پہ ناز تھا ہم کو بہت میاں
وہ بھی تو آج ہو گئے مغرور کیا کریں

بچے بھی اب ہمارا کہا مانتے نہیں
آیا بڑھاپا ہو گئے معذور کیا کریں

ہم جن کے واسطے یہاں بدنام ہو گئے
وہ لوگ آج ہو گئے مشہور کیا کریں

دولت اگر ہے پاس تو سارے عزیز ہیں
اب ہے یہی جہان کا دستور کیا کریں

جب سے ہمارے پاس میں کچھ بھی نہیں رہا
اپنے پرائے ہو گئے سب دور کیا کریں

وشمہ خدا کے ہاتھ ہیں قسمت کے فیصلے
جو بھی ملا وہ کر لیا منظور کیا کریں

Rate it:
Views: 317
28 Feb, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL