حالات کے تناظر میں
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, Hong Kongحالات کے تناظر میں
اک ناز پری کبھی آئے گی
میری الجھن کو ُسلجھائے گی
وہ چاہے گی میرے جیون کو
کبھی دُور کرے میری تڑپن کو
کبھی تیز کرے میری دھڑکن کو
کبھی دل سینے سے باہر ہو
کبھی سینے میں دل کو سجائے گی
اک ناز پری کبھی آئے گی
کبھی چاہت پر مجبُور کرے
وہ مُجھ کو کبھی مخمور کرے
پھر نشے کو مُجھ سے دُور کرے
کبھی سُلجھن کو ا ُلجھائے گی
کبھی اُلجھن کو سُلجھائے گی
اک ناز پری کبھی آئے گی
کوئی زخموُں پر مرہم رکھ دے
میرے ہونٹوں پہ تبسم رکھ دے
کوئی دل سے باہر غم رکھ د ے
چُپکے سے کبھی آکر قیصر
میری دُلھن وہ بن جائے گی
اک ناز پری کبھی آئے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







