حالِ دل کو ہم نے کر دیا باتوں باتوں میں بیاں
Poet: عمران حسنی By: عمران حسنی , Lahoreحالِ دل کو ہم نے کر دیا باتوں باتوں میں بیاں
نا جانے کس گھڑی ہونگے دل اُس میں ہم عیاں
وہ کہتے ہیں یقین نہیں ہوتا تیری محبت ہم ھیں
دھڑکن سنی ہماری اُس نے خود کو پایا ھے وہاں
انتظار ہو گیا لمبا یوں جیسے صدیاں گزر جائیں
ہو کرم اِن نگاہوں کا اگر بن جائے حسین یہ سماں
آخر کب تک تم ہم کو یوں ستاتے رہوں گے ساقی
بنا کر جام پلا ایسا مجھے عاشق بولے سارا جہاں
کچھ تو بولو تیرا یوں چُپ رہنا دل پر وار کرتا ھے
آواز جو سُن لوں میں تیری مٹھاس ایسی اور کہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






