حالی
Poet: Maulana Iltaf Hussain Haali By: Sandal Sherzad, chakwalاے شعر دلفریب نه هو،تو تو غم نهیں
پر تجھ په حیف هے جو نه هو دلگداز تو
صنعت په هو فریفته عالم اگر تمام
ھاں سادگی سے آئیو اپنی نه باز تو
جوهر هے راستی کا اگر تیری ذات میں
تحسین روزگار سے هے بے نیاز تو
حسن اپنا گر دکھا نهیں سکتا جهان کو
آپے کو دیکھ اور کر اپنے په ناز تو
تو نے کیا هے بحر حقیقت کو موج خیز
دھوکے کا غرق کر کے رهے گا جهاز تو
وه دن گئے که جھوٹ تھا ایمان شاعری
قبله هو اب ادھر تو نه کیجو نماز تو
اهل نظر کی آنکھ میں رهنا هے گر عزیز
جو بے بصر هیں ان سے نه رکھ ساز باز تو
ناک اوپری دوا سے تری گر چڑھائیں لوگ
معذور جان ان کو جو هے چاره ساز تو
چپ چاپ اپنے سچ سے کیے جا دلوں میں گھر
اونچا ابھی نه کر علم امتیاز تو
ع
جو نا بلد هیں ان کو بتا چور بن کے راه
گر چاهتا هے خضر کی عمر دراز تو
عزت کا بھید ملک کی خدمت میں هے چھپا
محمود جان آپ کو گر هے ایاز تو
اے شعر راه راست په تو جب که پر کیا
اب راه کے نه دیکھ نشیب و فراز تو
کرنی هے فتح گر نئی دنیا تو لے نکل
بیڑوں کا ساتھ چھوڑ کر اپنا جهاز تو
هوتی هے سچ کی قدر په بے قدریوں کے بعد
اس کے خلاف هو تو سمجھ اس کو شاز تو
جو قدر داں هو اپنا اسے مغتنم سمجھ
حالی کو تجھ په ناز هے کر اس په ناز تو
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






