حد سے زیادہ
Poet: Snober George By: Snober George, Faisalabadہم تمہیں پیار کرتے ہیں کچھ حد سے زیادہ
دل کو بے قرار کرتے ہیں کچھ حد سے زیادہ
خدا سے پہلے تیرا نام لیتے ہیں دعا میں
خود کو گناہ گار کرتے ہیں کچھ حد سے زیادہ
محبت کے ان سلسلوں میں خود کو
تمہارا پرستار کرتے ہیں کچھ حد سے زیادہ
امیدیں بکھرا نہ دینا کہیں، یہ کہہ کر
ان کو شرمسار کرتے ہیں کچھ حد سے زیادہ
ہمیں کچھ حوصلہ، کچھ آس تو دے دو تم
آج بھی انتظار کرتے ہیں کچھ حد سے زیادہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






