حرف حرف میں تو رہا بن کر میری دعاؤں کا حصار
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadمجھے چھوتا رہا تیری سانسوں کا حصار
بنتا رہا میرے گرد خوشبوؤں کا حصار
گوشہ گوشہ پھیل رہی ہیں صدائیں محبت کی
میری گفتگو میں رواں رہا تیری باتوں کا حصار
میری نگاہوں کی تلاش تیری نگاہوں تک جاناں
باندھ رہا ہے میرا لمس تیری نگاہوں کا حصار
جدائی کی بانہوں سے مجھے آزاد کردو میری جان
میری چاھت فقط تیری بانہوں کا حصار
میری سوچ کے بدن میں روح بن گیا تیرا نام
مجھے میں اتر گیا تیرے لفظوں کا حصار
لفظ تو یہاں روز بنتے ہیں کسی لفظ میں کمی نہیں
میری دھن کو بھاتا ہے تیرے گیتوں کا حصار
دعا آرزو میں تیرا نام رہا ابد سے ازل
حرف حرف میں تو رہا بن کر میری دعاؤں کا حصار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






