حریف زندہ رہے یار مر گئے میرے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

حریف زندہ رہے یار مر گئے میرے
کہ اس فسانے میں کردار مر گئے میرے

زمانے بھر میں کوئی بھی نہیں رہا اپنا
جہاں کہیں بھی تھے حبدار مر گئے میرے

عجیب فلم بنی ہے مری جوانی پر
قدم قدم پے ادکار مر گئے میرے

میں اپنے شہر میں اب اپنی آشنا ہوں فقط
یہ واقعہ ہے کہ غم خوار مر گئے میرے

کوئی بھی نوحہ کناں اب نظر نہیں آتا
میں مر گئی تو عزادار مرگئے میرے

دیارِ غیر میں لوٹا گیا مجھے اکثر
یہی تو دکھ ہے طرفدار مر گئے میرے

کوئی ستم ہے نہ کرم ہے کئی مہینوں سے
کسی سبب سے ستم گار مر گئے میرے

گزر گئے ہیں زمانے مری محبت کے
مرے خیال میں دلدار مر گئے میرے

Rate it:
Views: 1035
06 Feb, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL