حسرت
Poet: Muhammad Awais Dossi By: Muhammad Awais dossi, Lahoreچُرا لائی ہے خوشبو تیری سانسوں سے بہار
بسی ہوئی ہے مہک تیرے بدن کی پُروائیوں میں
اوس قطرے چمکتے ہیں تیرے پسینے کی مانند
تیرے چہرے کی جھلک ہے صبح کے اجالوں میں
نرم و ملائم جسم پے تیرے کہ نظر تک نہ ٹھہرے
بھیگوے رکھا ہو جیسے برسوں تمہیں شہد میں
دودھ دھولی رانوں پے تیری سر رکھ کر
اُتر جاؤں میں تیری روح کی وسعتوں میں
چھُو لوں تجھ کو اور فنا ہو جاؤں
قیامت خیز غضب ہے تیری قربت میں
تیری دید سے ہے وابستہ آسودگی دل کی
اک تیرے دیدار سے ہی ہے رونق میری تنہائیوں میں
تیرے گھنے گیسوؤں کی چھاؤں میں گزرے ہر شب
وقت کبھی ایسا بھی آئےگا دوسی، تیری زندگی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






