حسین گیتوں کے انداز ہیں تمھارے لیے ۔۔۔۔
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanیہ سر ، یہ لے، یہ مدھر ساز ہیں تمھارے لیے
حسین گیتوں کے انداز ہیں تمھارے لیے
تم اپنے حسن پہ مغرور کیوں نہیں ہوتے
کہ حسن پہ تو سبھی ناز ہیں تمھارے لیے
تمھارے پیار نے ہم کو بنا دیا شاعر
کہیں جو شعر تو اعزاز ہیں تمھارے لیے
گوارا ہو گی تمھاری کبھی نہ رسوائی
چھپائے دل میں سبھی راز ہیں تمھارے لیے
تمھارے سر کوئی الزام آ نہ جائے کہیں
یہ لب ہلانے سے ہم باز ہیں تمھارے لیے
یہ سر ، یہ لے ، یہ مدھر ساز ہیں تمھارے لیے
حسین گیتوں کے انداز ہیں تمھارے لیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






