حسینوں کے لب و رخسار سے ڈر لگتا ہے

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

کون کہتا ہے مجھے دار سے ڈر لگتا ہے
مجھے تو اپنے ہی غمخوار سے ڈر لگتا ہے

کہیں یہ طور کی صورت جلا نہ دے آنکھیں
تیرے حدت بھرے دیدار سے ڈر لگتا ہے

مجھے تھما دو ذرا اپنی یاد کے جگنو
اندھیرے میں در و دیوار سے ڈر لگتا ہے

یہ تو یوسف کا بھی نیلام کرا دیتے ہیں
مصر کے کوچہ و بازار سے ڈر لگتا ہے

خزاں کے پیچ و خم کا فکر نہیں ہے مجھکو
مجھے خاموشی بہار سے ڈر لگتا ہے

دشمنوں کی کھلی چبھتی نظر سے کیا ڈرنا
دوستوں کے چھپے کردار سے ڈر لگتا ہے

کئی دستاریں گری ہیں فریب میں ان کے
حسینوں کے لب و رخسار سے ڈر لگتا ہے

Rate it:
Views: 884
13 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL