حسیں یادوں کی گود
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillلمحوں سے کہیں دور بلاتی رہی مجھے
اک اجنبی کی یاد ستاتی رہی مجھے
انجان ظلمتوں سے اٹی اک ویراں گھڑی
چڑھتی ہوئی سحر سے ڈراتی رہی مجھے
تصویر جسکے سامنے اٹھتی نہ تھی نظر
الفت سے بازوؤں میں چھپاتی رہی مجھے
لیلائے خواب شوق سے روداد محبت
شب بھر بڑی لگن سے سناتی رہی مجھے
میں نے ندی سے پوچھا تیرے حسن کی بابت
وہ چاندنی کا عکس دکھاتی رہی مجھے
بکھرا ہوا تھا میں تیری راہوں کی دھول میں
خوشبو کلی کلی پہ سجاتی رہی مجھے
میں گوشہ ء گمنام میں بیٹھا تھا سہم کر
وہ آنکھ آئینوں سے چراتی رہی مجھے
سویا پڑا تھا میں حسیں یادوں کی گود میں
تتلی تمہارے شعر سناتی رہی مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






