حصے داری
Poet: کاشف لاشارئ By: کاشف لاشارئ, دریا خان ' پنجابسانسوں میں بھی حصے داری رہتی ہے
کسی کی یاد کی پہرے داری رہتی ہے
دھڑکنوں تھوڑا تکلف کرو اب
یہاں کسی کی راہ گزاری رہتی ہے
دل کے دریچے مہک اٹھتے ہیں اکثر
کسی کی شامل خوش گفتاری رہتی ہے
کبھی خوابوں کی دہلیز پر چلے آنا
کسی کی باقی ذمہ داری رہتی ہے
ایک خبر آئی ہے اس کے شہر سے
وہاں شیریں حواری رہتی ہے
تمہارے خیال چھوڑ دیتا ہوں اکثر
معاف کرنا کچھ قرض داری رہتی ہے
یہی عبادت ہوتی ہے اب دل سےکاشف
تمہارے نام کی تسبیح جاری رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






