حق بات کیا نکل گئی میری زبان سے

Poet: syed irfan ali zaidi By: syed irfan ali zaidi, faisal abad

 حق بات کیا نکل گئی میری زبان سے
مجھ سےتمام لوگ ھوئے بد گمان سے

پنہایوں میں اس کی بلندی چھپی ملی
کتنی عظیم ہے یہ زمیں آسمان سے

سائے میں تیرگی میں پجاری کو کیا خبر
پوچھو تمازتوں کا اثر سائبان سے

بچے کبھی نا میری کتابوں سے کھیلتے
گر میں خرید سکتا کھلونے دوکان سے

اپنی زمین چھوڑ کر جانے لگا تھا میں
لڑنے لگیں ھوائیں مگر بادبان سے

مقتل گواھی دیتے ھیں ھر سو زمین پر
اترا کھیں عذاب ھے پھر آسمان سے

اوندھا پڑا ملا ھے چراغوں کا قافلہ
چھوڑا یہ تیر کس نے ھوا کی کمان سے

بے نام پانیوں کی طرف تیرتے ھوئے
ٹکرا گیا ھو ترے بدن کی کمان سے

سڑکوں پہ پھر رھی ھے اجل ڈھوتی ھوئی
زیدی مں پھر نکلنے لگا ھو مکان سے

Rate it:
Views: 719
06 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL