حقِ وفا اب میں کیسے ادا کروں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadحقِ وفا اب میں کیسے ادا کروں
خود کو تجھ سے کیسے جُدا کروں
وفا تجھ سے یہ ہے تجھے میں بھول جاؤں
کروں تو کیسے میں تجھ سے جفا کروں
وصل بھی قیامت ہجر بھی قیامت
تو ہی اب بتا ایسے میں کیا کروں
بچھڑنے کے نام سے ڈرتا بھی ہے دل
مگر تجھ سے کروں تو کیسے دغا کروں
مانگوں میں کس سے تیرے لیے سکون
کس درد پہ جاؤں اور کیا صدا کروں
تو میری بے بسی کو کوئی نام دے
مجبور، بے بس ہوں کیا میں وفا کروں
رہے آباد دل یاد میں اُسی کی
یہی میں تو ساجّد ہر پل دعا کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






