حقیقت

Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, Dunya Pur, District Lodhran

بچھڑے ہوئے بھی تم سے گزرے ہیں کئی زمانے
دل میں دفن ہیں لیکن تیری یاد کے خزانے

ہم نے سنبھال رکھی ہیں تیری نشانیاں بھی
روتا ہوں دیکھ کر میں تیرے سارے خط پرانے

میں زندگی بھی دے دوں وہ جان تک جو مانگے
لیکن وہ بے وفا ہے میری ایک تک نہ مانے

بس مجھ میں یہ کمی ہے میرے پاس زر نہیں ہے
یہ بات میں بھی سمجھوں یہ بات وہ بھی جانے

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی نہ روک پایا خود کو
خوابوں میں آ گیا ہے دیکھو مجھے منانے

مجھے دیکھ کر وہ ہنسے یہ بات راز کی ہے
آئے گا ایک دن وہ پھر سے مجھے رلانے

زندگی کی الجھنوں سے کبھی وقت ہی نکالو
اک بار مل تو جاؤ مجھ کو کسی بہانے

فقط اتنی ہے “حقیقت“ مجھے تم سے ہے محبت
تیرے نام ساری غزلیں تیرے نام سب فسانے

اس کو سمجھ لو یارو ساجد کی بد نصیبی
ہمراہ رقیب آیا ہے وہ میرا دل جلانے

Rate it:
Views: 475
10 Jan, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL