حقیقت
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, Dunya Pur, District Lodhranبچھڑے ہوئے بھی تم سے گزرے ہیں کئی زمانے
دل میں دفن ہیں لیکن تیری یاد کے خزانے
ہم نے سنبھال رکھی ہیں تیری نشانیاں بھی
روتا ہوں دیکھ کر میں تیرے سارے خط پرانے
میں زندگی بھی دے دوں وہ جان تک جو مانگے
لیکن وہ بے وفا ہے میری ایک تک نہ مانے
بس مجھ میں یہ کمی ہے میرے پاس زر نہیں ہے
یہ بات میں بھی سمجھوں یہ بات وہ بھی جانے
مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی نہ روک پایا خود کو
خوابوں میں آ گیا ہے دیکھو مجھے منانے
مجھے دیکھ کر وہ ہنسے یہ بات راز کی ہے
آئے گا ایک دن وہ پھر سے مجھے رلانے
زندگی کی الجھنوں سے کبھی وقت ہی نکالو
اک بار مل تو جاؤ مجھ کو کسی بہانے
فقط اتنی ہے “حقیقت“ مجھے تم سے ہے محبت
تیرے نام ساری غزلیں تیرے نام سب فسانے
اس کو سمجھ لو یارو ساجد کی بد نصیبی
ہمراہ رقیب آیا ہے وہ میرا دل جلانے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






