حقیقت سے کبھی آنکھیں چرا کر کچھ نہیں ملتا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: ندا چودھری, Karachiحقیقت سے کبھی آنکھیں چرا کر کچھ نہیں ملتا
خیالوں میں کوئی دنیا بسا کر کچھ نہیں ملتا
نہ پوچھو دوستو مجھ سے محبت کا مری حاصل
کہ راہِ عشق میں سب کچھ لٹا کر کچھ نہیں ملتا
وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں جہاں معدوم ہو منزل
کہ یونہی گرد راہوں میں اڑا کر کچھ نہیں ملتا
کبھی نہ وقت سے پہلے شجر پہ پھیکنا پتھر
کہ شاخوں سے ثمر کچے گرا کر کچھ نہیں ملتا
جو عالی ظرف دشمن ہو اسی سے دشمنی رکھنا
کسی کم ظرف کو نیچا دکھا کر کچھ نہیں ملتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






