حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreحقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
آسمانوں زمینوں میں زمانوں اور مکانوں میں
کہساروں چٹانوں میں اور چٹیل میدانوں میں
برفاف پہاڑوں پہ وادیوں میں کھلیانوں میں
بجلیوں میں شراروں میں آتشی خاکدانوں میں
شمع کے گرد منڈلاتے اڑتے جلتے پروانوں میں
داناؤں کی مستی میں نادانوں میں دیوانوں میں
قلندر کی دھمالوں میں جبینوں آستانوں میں
قدرت کے اشاروں میں بہاروں میں نظاروں میں
اسی کا نغمہ سر میں ساز آواز و آہنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
موسموں کے تغیر میں خزاں میں اور بہار میں
پرندوں کی چہکار میں پھولوں کی مہکار میں
دھول میں پھوہار میں جھرنوں کی جھنکار میں
خاک کے ذرے ذرے میں پتوں میں اشجار میں
شام و سحر کی دھند میں ہوش میں خمار میں
مٹی میں گھاس میں خوشبو میں خار میں
پانی میں ہواؤں میں جلتی بجھتی نار میں
سیپ میں موتی میں سنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
صرصراتی ہواؤں میں سکوت میں آواز میں
بہکتے مہکتے انداز میں سر میں ساز میں
تحریر میں بیان میں حروف میں الفاظ میں
شعور و لا شور میں عجز میں نیاز میں
الغوزہ، بانسری، رباب و چنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
بدلیوں کی دوڑ میں بادلوں کے شور میں
سوچ میں قیاس میں فکر میں غور میں
زمان میں مکان میں اوقات میں دور میں
ہاتھ کی لکیروں میں انگلیوں کی پور میں
تخلیق کائنات کے ہر ایک ڈھنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
خاک کے ذرے ذرے میں پانی کی ہر لہر میں
پتوں میں اشجار میں ہر قطرے میں بحر میں
تتلیوں کے رنگوں میں بھنوروں کے ہیر پھیر میں
رکتے چلتے لمحوں کی عجلت میں اور دیر میں
چرند پرند حشرات ماہی و نہنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
پھولوں کی ہر ڈالی میں ہر گوری ہر کالی میں
بھوری نیلی سبز کالی نیونوں کی ہر پیالی میں
چاند ستاروں سے مزین آسمان کی جالی میں
نیلگوں فلک پہ پھیلی شفق کی سندر لالی میں
روشنی خوشبو ذائقوں اور رنگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
اللہ ھو کے ورد کا معجزہ ایسا انگ لایا ہے
رخ انور پہ نور کی کرنوں کا روشن سایا ہے
انگ انگ میں کیف و مستی کا وہ رنگ سمایا ہے
اللہ ھو اللہ ھو نے قلب و روح کو گرمایا ہے
جذب و کیف کی مستی کا رنگ انگ انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت سے گَمان کے ہر ایک انگ میں ڈھلا ہے
حقیقت کا ہر ایک رنگ مجاز کے ہر انگ میں ڈھلا ہے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






