حقیقت کو چھپانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاحقیقت کو چھپانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
مرے ہونے نہ ہونے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کسی کو کیسے بتلاؤں مرے دل کا ہے کیا عالم
بڑی مشکل بھلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
نظر آتے نہیں روشن سحر کے دور تک آثار
گماں تھا کٹ ہی جانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
مرا آئینۂ احساس حیراں ہو نہیں سکتا
یقیں کا نور کر نے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
مری آنکھوں میں اک موسم ہمیشہ سبز رہتا ہے
خدا جانے ہیں لانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کناروں پر تمہارے واسطے موتی بہا لائے
گھروندے بھی لگانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
نہیں معلوم آخر کس نے کس کو تھام رکھا ہے
وہ مجھ میں گم ہے پانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارے
تو پھر کیاآزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
بہت کچھ فرق وشمہ آ چلا ہے داستانوں میں
ستم ہی سکھلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
وشمہ خان وشمہ
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






