حیا سے تو نے جھکائیں جو دلنشیں آنکھیں (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanحیا سے تو نے جھکائیں جو دلنشیں آنکھیں
دیوانہ مجھ کو بنابے لگیں حسیں آنکھیں
ترے بدن کی بلاتی ہے عنبریں خوشبو
تری لگن ہے مجھے ، تیرے پیار کی آرزو
ترس رہا ہوں میں ہونٹوں کے جام پینے کو
یہ تیری آنکھوں میں کاجل ہے یا حسیں جادو
سحر لٹاتی ہیں تیری یہ سرمگیں آنکھیں
دیوانہ مجھ کو بنانے لگیں حسیں آنکھیں
کھلی کھلی سی جو زلفیں ہوا میں لہرائیں
لگا یوں مست گھٹائیں فلک پہ ہوں چھائیں
تمھارے آنے سے دل میں گلاب کھلنے لگے
اداس روح میں کلیاں وفا کی مسکائیں
ترنگ جاگی اٹھیں جو یہ نازنیں آنکھیں
دیوانہ مجھ کو بنانے لگیں حسیں آنکھیں
حیا سے تو نے جھکائیں جو دلنشیں آنکھیں
دیوانہ مجھ کو بنانے لگیں حسیں آنکھیں
نوٹ: وادی ء کاغان جاتے ہوئے رات کے وقت دوران سفر اس نغمے کی آمد
ہوئی جسے اسی وقت موبائل میں لکھ کر محفوظ کر لیا اور اب واپسی
پر اسے سب دوستوں اور پڑھنے والوں کی نذر کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاہد
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






