حیات حاصل
Poet: Muhammad Khan Ashraf By: Uzma Ahmad, Lahoreالجھنیں تو ہوتی ہیں
مشکلیں تو ہوتی ہیں
زندگی کی راہوں میں
دقتیں تو ہوتی ہیں
زندگی تو چلتی ہے
زندگی تو پھر بھی ہے
جب تلک بھی زندہ ہیں
وقت ہی مقدر ہے
زندگی تو تنکا ہے
وقت ایک سمندر ہے
اس سے تم نہین ڈرتے
بھاگ بھی نہیں سکتے
یہ تو رسن ہستی کے
ریشہ ہائے بستہ ہیں
یہ شعور انفس کے
جان من ! رگ جاں ہیں
سانس کا یہی رشتہ
ذات کا یہی رستہ
کرب جاں کا باعث ہے
اس وجودِ منزل کا
یہ تو ایک حصہ ہے
وقت کے اشارے پر
زندگی بدلتی ہے
وقت کے سہارے پر
عمر سانس لیتی ہے
وقت ہی کے دھارے پر
ہر نظیر بہتی ہے
وقت سیل بےپایاں
زندگی مشقت ہے
وقت قہر بے درماں
زندگی اذیت ہے
زندگی، بلاد جاں
دائرہ مشیت کا
زندگی کا ہر رستہ
موت ہی کو جاتا ہے
پھول کھل کے جھڑتے ہیں
لوگ جی کے مرتے ہیں
کوزہ ہائے گل جیسے
خاک سے اترتے ہیں
آگ سے گزرتے ہیں
کشمکش کی دنیا میں
بچ بچا کے رہتے ہیں
اور پھر کسی ہاتھوں
گر کے ٹوٹ جاتے ہیں
ان سے میں نہیں ڈرتا
یہ تو ایک حصہ ہیں
اس وجودِ منزل کا
تو نے کیا نہیں دیکھا
تو نے کیا نہیں سوچا
وقت کے ترازو پر
ہر وجود تلتا ہے
وقت سیل بےپایاں
بے کرانہ بے ساحل
ازل ایک دھماکہ تھا
ابد بازگشت اس کی
زندگی ! بلاد جاں
دائرہ مشیت کا
آج اے مہ تاباں
تو نگاہ جنت ہے
کل کو حسن مہتابی
ایک مشت کالستر
یہ حیات حاصل ہے
یہ ہماری منزل ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ







