کبھی اِسکا در کبھی اُسکا در
Poet: Mohammed Iqbal Ishrat Warsi By: Ishrat Iqbal Warsi, mirpurkhasنہ میں خاص ہوں نہ ہی عام ہوں
نہ بادہ نو نہ ناصِحٰہ کا کلام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
نہ نجیب نہ ہی غریب ہوں
نہ سلیم نہ ہی کلیم ہوں
نہ ہی رند ہوں نہ پارسہ
نہ ہی کوئی تشنہ کام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
کبھی میکدہ کبھی آستاں
کبھی بےقرار کبھی شادماں
نہ ہی وحشتوں کا اسیر ہوں
نہ ہی زندگی کا غلام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
کبھی بے یقیں کبھی دیدہ ور
کبھی اِسکا در کبھی اُسکا در
کبھی نِکہتوں کا پیام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
کبھی ہنس د ئیے کبھی رُو د ئیے
کبھی چُپ رہے دیکھا کئے
کبھی سحر ہوں تو کبھی شام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
کبھی جگنوؤں کی لپک جھپک
کبھی آہو جیسے سُبک سُبک
کبھی کہکشاؤں کی چمک دَمک
کبھی سُرمئی سی کوئی شام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
کبھی شاعری کبھی فلسفہ
کبھی جلوتوں میں واعظ نُماء
کبھی خلوتوں میں بہک گیا
سا خیال نا تمام ہوں
کہیں درمیاں میں ہوں کھڑا ہوا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ







