حیات کی سبھی ہو مرادیں پوری یہ بخت کی بات ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiحیات کی سبھی ہو مرادیں پوری یہ بخت کی بات ہے
تقدس میں تاؤ نہ کوئی، ہر طرف تخت کی بات ہے
یوں از خود طبیعت کی اپنی ہی نٹ کھٹی رہی
مگر مزاج جو حقیر مت سمجھو یہ خصلت کی بات ہے
نہیں کہہ سکتے کہ حیات کے لمحے اور بھی ہونگے
ہم ملیں یا مل کر بچھڑیں یہ تو وقت کی بات ہے
پل بھر کی تسکین کو سبھی دیوانے بن گئے ہیں
کیا کریں ان دلوں کا؟ سب حسرت کی بات ہے
یہ ضروری نہیں کہ افلاس ہر جگہ بھٹکتا ہے مگر
کہیں کہیں مفلسی بھی ایک غفلت کی بات ہے
ہم جنم سے جہنم کی ہر سنگینی سے گذرے ہیں
مگر ہر ابتدا کہتی ہے اُس آخرت کی بات ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






