حیات گُم گشتہ- پانچ

Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi

کیا یاد تجھے بھی آتے ہیں
اَک لڑکی تھی اکَ لڑکا تھا
دکھ و الم تو دور تھے لیکن کب تک
انہیں معلوم نہ تھا
تقدیر بھی اُن کی گھات میں تھی
انسان تو ایک کھلونا ہے تقدیر کے ظالم ہاتھوں میں
تقدیر تو خنداں رہتی ہے انسان کی بے بس سوچوں پر
اُلفت میں مگن رہنے والے
انجان سی راہوں کے راہی
اس بات سے وُہ لاعلم رہے اور
تقدیر نے کاری وار کیا
لڑکے کو اُس کے گھر والے
اکثر یہ کہتے رہتے تھے
کہ دوسرے مُلک چلا جائے
تعلیم اور حاصل کر آئے
یہ اُن کا منصوبہ تھا
یا کوئی گہری سازش تھی
وُہ اپنی دُھن کے پکے تھے
لڑکا پس و پیش کرتا تھا
وُہ جنت چھوڑ کے کیوں جاتا
کیسے وُہ بہاریں تج دیتا
کیا یاد تجھے بھی آتے ہیں
اَک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا

Rate it:
Views: 495
27 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL