حیاتَ غُم گشتہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindiیادیں کچھ بیتے لمحوں کی
کیا تُجھ کو بھی تڑپاتیں ہیں
معصوم سے کھیل لڑکپن کے
اور سُندر خواب جوانی کے
کیا تُجھ کو بھی یاد آتے ہیں
وُہ دھول اُڑاتی گلیوں میں
وُہ گاؤں کی پگڈنڈیوں پر
اُن اُونچے نیچے رستوں پر
جو بھاگے داڑے پھرتے تھے
اور کھیتوں میں کھلیانوں میں
جو ننگے پاؤں چلتے تھے
اَ ک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا
کیا تجھ کو بھی یاد ُ آتے ہیں
گرما کی گرم دوپہروں ہیں
پیپل کی گھنیری چھاؤں تلے
تالاب کنارے بیٹھ کے وُہ
اُس ٹھنڈے ٹھنڈے پانی پر
کچھ عکس اُبھارا کرتے تھے
پھر باتیں کرتے رہتے تھے
اور دھول اٹے پیروں کو وُہ
پانی میں جھلا کر دھوتے تھے
اور جھاگ اُڑایا کرتے تھے
کیا تجھ کو بھی یاد آتے ہیں
اَک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






