حیاتَ غُم گشتہ

Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi

یادیں کچھ بیتے لمحوں کی
کیا تُجھ کو بھی تڑپاتیں ہیں
معصوم سے کھیل لڑکپن کے
اور سُندر خواب جوانی کے
کیا تُجھ کو بھی یاد آتے ہیں
وُہ دھول اُڑاتی گلیوں میں
وُہ گاؤں کی پگڈنڈیوں پر
اُن اُونچے نیچے رستوں پر
جو بھاگے داڑے پھرتے تھے
اور کھیتوں میں کھلیانوں میں
جو ننگے پاؤں چلتے تھے
اَ ک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا
کیا تجھ کو بھی یاد ُ آتے ہیں
گرما کی گرم دوپہروں ہیں
پیپل کی گھنیری چھاؤں تلے
تالاب کنارے بیٹھ کے وُہ
اُس ٹھنڈے ٹھنڈے پانی پر
کچھ عکس اُبھارا کرتے تھے
پھر باتیں کرتے رہتے تھے
اور دھول اٹے پیروں کو وُہ
پانی میں جھلا کر دھوتے تھے
اور جھاگ اُڑایا کرتے تھے
کیا تجھ کو بھی یاد آتے ہیں
اَک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا
 

Rate it:
Views: 545
08 Aug, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL