حیاتِ شیخ الہند مولانا محمودالحسن رحمتہ اللّہ علیہ
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaنہ کیوں تمہیں سنائیں وہ حیاتِ دلبرانہ
وہ نقیبِ حرّیت ہی وہ ہی فاتحٍ زمانہ
وہ تو سرفروش ایسا نہ ملے جہاں میں ویسا
رہا دبدبہ ہی اس کا جو جھکا دیا زمانہ
وہ ہی محمودالحسن تھےجو اسیرِ مالٹا ہی
رہی قوتِ لسانی کبھی شمشیرِ براں بھی
رہی خاص ہی توجہ ہوئی خاص تربیت بھی
رہی مستقل ہی صحبت تو اکابر اولیاء کی
وہ قرآں کے تھے مترجم وہ محدثِ زمانہ
وہ تھے بوریہ نشیں تو مزاجِ قلندرانہ
وہ ہی بانی اور محرّک ریشمی رومال کے تھے
کیا زلزلہ ہی طاری تو قلعوں میں سروری کے
رہا امتزاج ایسا وہ ہو دینی یا ہو عصری
تو ملے مثال اس کی یہی جامعہ ملّیہ ہی
ہے طویل ہی تو فہرست جو تلامذہ تھے ان کی
تو بجھائی علم کی ہی کئی اک کی تشنگی بھی
رہا ذوق شاعری کا تو موزوں رہی طبیعت
کبھی عربی فارسی تو کبھی اردو پہ قناعت
رہے کوئی بھی تو شعبہ ہمہ گیر ہے ہی خدمت
وہ ہو دین اور شریعت یا تو ہو کوئی قیادت
ہے شمار اُن کا مشکل جو تھے اُن کے کارنامے
وہ تو ذات میں ہی اپنے تھے وہ انجمن ہی سارے
رہیں وہ غریق رحمت ہے دعا مؤدبانہ
تو قبول ہر مشن ہو جو تھا ان کا مخلصانہ
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






