حیرتوں کے منہ بھی ہیں کھلے ہوئے ۔شاہین
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjnحیرتوں کے منہ بھی ہیں کھلے ہوئے
تیرے لفظوں کی تیز دھار سے
میرے آنسو، میری سسکیاں بھی
ہیں سہمے ہوئے
ہوا بھی چپ چاپ ،اداس ہے
فضا بھی خاموش،سوگوار ہے
رات کے پچھلے پہر ،سوچوں کا قہر
بس گھڑی کی ٹک ٹک ہے
اور دل کی دھک دھک ہے
ہزار وسوسے ہیں
ہزار سوال ہیں ۔جان کا وبال ہیں
اور میں ہوں تنہا شاہین
سکوت ہے اس قدر
اندھیرے کو بھی لگ رہا ہے ڈر
میرے مقدر کے عقب میں
حسرتوں کی چاپ ہے
بے یقینی کی چھاپ ہے
تیری ہر بات بھی تو سچی نہیں
یوں قطرہ قطرہ موت اچھی نہیں
آس کی روشنی کے عذاب اب
سہے نہیں جاتے
صدموں کے جام پئے نہیں جاتے
اے غم آتش
ان سے بچا لو
مجھے آج پورے کا پورا جلا دو
مجھے خود میں پناہ دو
مجھے خود میں چھپا لو
مجھے خود میں چھپا لو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






