خامشی کی وہ دیوار گرا دیتا
Poet: Ghulam Farid Faridi By: Khayam Aali, Multanخامشی کی وہ دیوار گرا دیتا
میں کوئی دور تھا،اک بار صدا دیتا
میں چلا آتا بامثل باد بہار
خزاں کے موسم میں بھی گر بتا دیتا
یا پھر اک زخم نیا مجھ کو دیتا جاتا
یا ہجر پوش کوئی مجھ کو ردا دیتا
وہ سمجھتا تھا کہ ہیں سارے گناہ میں نے کیے
میرے ناکردہ تھے ،چاہے وہ سزا دیتا
میں کے سایہ دیوار کے ساتھ تھا خاموش کھڑا
جاتے جاتے وہی دیوار گرا دیتا
تو فریدی بھی ہے بے وجہ ہی نالاں اس پر
ایسے حالات میں وہ اور تمہیں کیا دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






