خاموش اس کے غم میں رہوں چو ر ہو گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادلبر سے درد دل کہوں مامور ہو گیا
خاموش اس کے غم میں رہوں چو ر ہو گیا
اس شوخ سے جدا میں رہوں ہائے کب تلک
یہ ظلم یہ ستم سہوں مجبور ہو گیا
رہتا ہے روز ہجر میں ظالم کے غم مجھے
اس دکھ سے دیکھیے کہ میں رنجور ہو گیا
کیا کیا خرابیاں میں ترے واسطے سہیں
کرنے تھے جن میں عیش و ہ دستور ہو گیا
آئی بہار جائیے صحرا میں شہر چھوڑ
مجھکو جنوں ہے گھر سے وہ دور ہو گیا
غم وصل میں ہے ہجر کا ہجراں میں وصل کا
گویا کہ ان کے ظلم سے محصور ہو گیا
ظالم کو ٹک بھی رحم مرے حال پر نہیں
وشمہ میں اسکے ظلم سے ہی چور ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






