خاموش خواہش
Poet: Zameer Dhother By: Zameer Dhother, Ratta Dhother,Gujranwalaاپنی یہ چاہتیں اپنی یہ قربتیں سونپ دو مجھ کو
اور کچھ نہیں اپنے دن ساری راتیں سونپ دو مجھ کو
چلو آج کرتے ہیں مل کے سودا یہ محبت کا
سارے خواب حوالے تیرے فقظ آنکھوں کی راحتیں سونپ دو مجھ کو
میرے ماضی کا لمحہ یہ لمحہ تم لے لو مجھ سے
فقط تیرے ساتہ گزری ہییں جو ساعتیں وہ سونپ دو مجھ کو
اے میرے رفیق میں نے اپنے احوال سے تجھےانجان کبھی نہیں رکھا
تم بھی تو وہ آن کہی وہ ادھوری باتیں سونپ دو مجھ کو
جس کلی کے کھلنے کے منتظر رہے ہم عمر بھر ضمیر
آج ابھری ہے آس میں جو نزاکتیں سونپ دو مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







