خاموشی بحران صدا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
Poet: Parvaiz Shahidi By: Shahid, Karachiخاموشی بحران صدا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
سناٹا تک چیخ رہا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
ترک تعلق کر کے زباں سے دل کا جینا مشکل ہے
یہ کیسا آہنگ وفا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
دل والوں کی خاموشی ہی بار سماعت ہوتی ہے
بے آوازی کرب فضا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
بھیس بدلتی آوازیں ہی شام و سحر کہلاتی ہے
وقت کا دم کیا ٹوٹ گیا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
سکتے تک اب آ پہنچا ہے بڑھتے بڑھتے کرب سکوت
ہونٹوں پر کیا وقت پڑا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
کیسی نرمی کیسی سختی لہجے کی کیا بات کریں
فکر ہی اب غم کردہ صدا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
جب تک راہ وفا تھی سیدھی زور بیاں تھا عیش سفر
شاید کوئی موڑ آیا ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






