خاموشی ٹوٹ جاتی ہے
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadسنو
بڑا مان ہے نا تمہیں ۔۔۔۔۔اپنے لہجے پر
اپنی گویائی پر
مگر کچھ دیر نہیں لگتی رسوائی پر
میری خاموشی کو ۔۔۔۔۔ میری کمزوری نہ سمجھ
خاموشی جب ٹوٹتی ہے تو طوفان اٹھتے ہیں
جس کی زد میں کوئی ایک نہیں آتا
دیے سب کے بجھتے ہیں
گھر سب کے اجڑتے ہیں
آشیاں سب کے گرتے ہیں
زرد پتوں نے تو گرنا ہی ہوتا ہے
مگر
بہت سے ہرے درخت بھی
طوفان کی بھینٹ چڑھتے ہیں
ذرا اب سوچ کہ کہنا۔۔۔ جو بھی تم نے کہنا ہے
آواز خواہ ہوا کی ہو
خاموشی ٹوٹ جاتی ہے
خاموشی ٹوٹ جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






