خاک مے مل جائے یا مٹ جائے۔۔۔

Poet: اظہر صابری By: Azhar Sabri, New Delhi

خاک مے مل جائے یا مٹ جائے اس جہاں سے
زبان کا ذائقہ ہے جو نکلے گا زبان سے

جسم کو تقمیل کیا خدا کے نافرمانو نے
پھر بھی روح پرواز کر گئی جسم جان سے

زبان دیا ہے کسی کو میرا بھی کچھ وجود ہے
جو تیر نکلتا ہے واپس آتا نہیں کمان سے

عتاب کو خوشی کے چادر مے لپیٹ ڈال
کہ آ دیکھ سیرت کا غل تاثیر ترزمان سے

ملا ناشاد بدنصیبی بندگی کے بعد بھی
کوئی کب مانگتا ہے اب اس جہاں کےانسان سے

تعجب نہیں کوئی مجھے ایک سچ ہی تو کہا تھا
تصوف کا تصویر دکھایا تھا ایمان سے

درد غم کے محفل مے شریک تھا میں بھی
کبھی آنت کا پتا ملتا نہیں احسان سے

عطف عظیم نہ کر کبھی کسی سے اظہر
عرضمند بھی ہوتا ہے قلب کے ارمان سے

 

Rate it:
Views: 571
22 Sep, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL