خاک کا پتلا تھا جس کو مہر آسا کر دیا
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi خاک کا پتلا تھا جس کو مہر آسا کر دیا
داد دیجے ہم نے اک ذرے کو کیا کیا کر دیا
پھر نئے جلوؤں سے اس بت کو خود آرا کر دیا
تابش عشق و وفا نے کیا کرشمہ کر دیا
داغ سینے پر تو زخم اک دل میں پیدا کر دیا
کام قاتل کا جہاں میں تو نے گویا کر دیا
چشم جاناں ! تیری اس طرز مسیحائی کی خیر
غمزدوں کے ہر مرض کو تو نے اچھا کر دیا
شام فرقت ہے، مری بے تابیاں ہیں اور میں
شوق نے اس کے سر بازار رسوا کر دیا
اٹھ کے محفل سے تری ، جائے کہاں دل باختہ
تو نے اس کو اور بھی کچھ نا شکیبا کر دیا
صبر کا یارا ہو کیونکر، اس کا میں مبعود ہوں
حسن و رعنائی سے جس نے حشر برپا کر دیا
ڈس لیا خود مجھ کو میرے جذبہ اخلاص نے
ہائے اس دل نے بھری دنیا میں تنہا کر دیا
کیا خبر شیخ حرم نے کیا کہا ہے کان میں ؟
آج ساقی نے مجھے محفل سے چلتا، کر دیا
جہل طینت چڑھ گیا جب مسند ارشاد پر
علم و عرفان و تصوف اس نے رسوا کر دیا
کا ہے مجھ کو لا کے دنیا کی اندھیری رات میں ؟
بخت نے وقف ستم ہائے احبا کر دیا
گردش دوراں کی زد میں، وہ بشر آ کے رہا
راز دل جس نے کہ محفل میں ہویدا کر دیا
ہو گئی رسوا جہاں میں وضع خود داری مری
کج ادائی نے تری خون تمنا کر دیا
مرگ زینہ تھی وصال دوست کا ، کر کے علاج
ظلم کتنا تو نے مجھ پر اے مسیحا ! کر دیا
میکدے کی رونقیں کیں آکے رومی نے بحال
اس نے زندہ کاروبار جام و مینا کر دیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






