خبر جھوٹی ہو تو اخبار بدل جاتے ہیں
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiحرفِ انکار و اقرار بدل جاتے ہیں
دھن کی خاطر کئی پندار بدل جاتے ہیں
جنسِ مجبور تو بازار ہی میں رہتی ہے
ہاں فقط روز خریدار بدل جاتے ہیں
حُسنِ یوسُف اگر بے پردہ نظر آتا ہے
شربتِ دید سے بیمار بدل جاتے ہیں
ترکِ اُلفت کی قسم روز نئی کھاتے ہیں
دیکھ کر اُس کو، ہر اِک بار بدل جاتے ہیں
اہلِ منصب کے قصائد، بعد منصب ہے ہجو
آہ کس درجہ یاں اُفکار بدل جاتے ہیں
صرف اِک حال بدلنے سے بدلتا ہے جہاں
مُفلسی آنے سے سب یار بدل جاتے ہیں
وقت ہر ایک کو بے طرح بدل دیتا ہے
خوفِ طوفان سے پتوار بدل جاتے ہیں
مرگ کا خوف بدلتا نہیں دیوانوں کو
ورنہ سب لوگ سوئے دار بدل جاتے ہیں
فصل نفرت کی نہ گھر میں کبھی اُگنے دینا
کیونکہ اس فصل سے گھر بار بدل جاتے ہیں
قصہء کرب و بلا نے کیا واضح سب پر
ظلم بڑھتا ہے جب انصار بدل جاتے ہیں
سِیم و زر دے نہیں سکتے ہیں کسی کو خوشیاں
دولت ملتی ہے تو آزار بدل جاتے ہیں
تھا سمجھتا کہ میرے ساتھ ہیں ہمدرد بہت
جب نہ جانا تھا اداکار بدل جاتے ہیں
لفظ توقیر سے عاری نہ ہوں کیونکر سرور
خبر جھوٹی ہو تو اخبار بدل جاتے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






