خدُا راہ اپنی موهائی سیاه کو بکھرنے نہ دو

Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujrat

خدُا راہ اپنی موهائی سیاه کو بکھرنے نہ دو
چاند سے چہرے سے ستاروں کو بکھرنے نہ دو

سمبھال رکھو میرے لئے ہر بکھری ہوئی زُلف
چشم بَد ہیں شہر کے لوگ انہیں انچل سے نکلنے نہ دو

سیاہ زُلفیں ہیں تیری کسی جامنزوی میں به عنوان ماه
ذرا سمبھالو انہیں کسی سیاہ قلب کی نظر لگنے نہ دو

ہے آج مخفلِ قلب ویران اک دلخواه کی مُنتظر
لب لبوں پہ رکھو زُلفیں چہرے پہ رہنے نہ دو

گرتی زُلفوں پہ تیری آتے ہیں پنچھی دیدارِ سخن
یہ شرف ہمیں کرو آتا یہ ستم میرے حق میں رہنے دو

وقت بدلہ بخت و اقبال تغییر خواہش رہی جوں کی توں
کھا کے ترس نہ بخشو مُحبت نفیس ہم پہ زوال ہی رہنے دو !!

Rate it:
Views: 692
14 May, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL