خریدی آپ نے ہے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل خرِیدی آپ نے ہے
مُبارک ہو سُنا ہے مِل خرِیدی آپ نے ہے

ہے خُوش فہمی کھرا اِک من کا سودا کر لِیا ہے
خُدا کے گھر کے بدلے سِل خرِیدی آپ نے ہے

کِسی کی طوطا چشمی سے ہُؤا یہ راز افشا
یہاں کے لوگ، یہ مِحفِل خرِیدی آپ نے ہے

وہاں بیکار میں مَیں جھونپڑے کی کھوج میں ہُوں
جہاں کا آب، گارا- گِل خرِیدی آپ نے ہے

ہُؤا اندازہ اب کُچھ آپ کو رُتبے کا اپنے
یہ گاڑی آپ کے قابِل خرِیدی آپ نے ہے

ہوا کے رُخ بدلنے میں بھلا ہے دیر کوئی؟
بجا کشتی مُعہ ساحِل خرِیدی آپ نے ہے

بھٹکتے پِھر رہے تھے مُدّتوں سے اب کُھلا یہ
مُسافت ماورا منزِل خرِیدی آپ نے ہے

رہا کرتا ہے کیوں بے چین ہر پل، ہر گھڑی کو
بلا کیا اے دلِ بِسمِل خرِیدی آپ نے ہے؟

مِری حسرت، مِرے ارماں، شرارت اور خموشی
مِری بے چارگی، قاتِل! خرِیدی آپ نے ہے

Rate it:
Views: 325
10 Jun, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL