خموش نگری میں

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

جنم لِیا ہے جو اِنساں فروش نگری میں
سکُوت چھایا ہُؤا ہے خموش نگری میں

جو مُنہ کی کھا کے پلٹتا ہے اور بستی سے
نِکالتا ہے وہ سب اپنا جوش نگری میں

اگرچہ چہرے سے یہ سخت گِیر لگتے ہیں
سبھی ہیں دوست صِفَت برف پوش نگری میں

تُمہارے شہر کے شر شور کا اثر ہی نہِیں
کہ چھوڑ آیا ہُوں مَیں چشم و گوش نگری میں

پڑی ہے سب کو یہاں اپنا سر چُھپانے کی
کوئی تو مُجھ سا دِکھے سر فروش نگری میں

امیرِ شہر نے صرفِ نظر پِسر سے کیا
غریبِ شہر کا نِکلا ہے دوش نگری میں

اُگا رہے ہیں یہاں فصل ظُلمتوں کی جو
سُنائی دی ہے نوائے سروش نگری میں

بہار آئی ہے پِیلی خزاں رُتوں کے بعد
سو پایا جاتا ہے جوش و خروش نگری میں

رشِیدؔ نام کے، سُنتے ہیں کوئی شاعر ہیں
نہِیں ہے اُن سا کوئی شَبد کوش نگری میں

Rate it:
Views: 260
21 Apr, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL