خموشی کی زباں میں گفتگو کرنی بھی آتی ہے
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi خموشی کی زباں میں گفتگو کرنی بھی آتی ہے
ہمیں اشکوں سے شرح ارزو کرنی بھی آتی ہے
فقط ہاتھوں سے مہندی کو رچانا ہی نہیں آتا
انھیں ہر آرزو میری لہو کرنی بھی آتی ہے
نہیں دشوار کوئی ، منزل مقصود کا ملنا
سفر در پیش ہو ، تو جستجو کرنی بھی آتی ہے
ادب مانع ہے ، ورنہ بارگاہ ناز میں جا کر
ہمیں ہر بات ان کے روبرو کرنی بھی آتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو گھبرا کے وہ محفل سے اٹھ جائیں
کہ اس ناچیز کو کچھ ہاؤہو کرنی بھی آتی ہے
کسی کے مرتبے کا پاس ہے وقت سخن لازم
تمھیں واعظ کسی سے گفتگو کرنی بھی آتی ہے
بہا کر خون دل ، ارمان سب اپنے لہو کر کے
ترے کوچے کی مٹی سرخرو کرنی بھی آتی ہے
جناب شیخ سے ہے مختلف اپنی قدح نوشی
بحمد اللہ عباد بے وضو کرنی بھی آتی ہے
نصیر ! اپنوں کی عزت لوگ کرتے آئے ہیں ، لیکن
وہ ہم ہیں جن کو تعظیم عدو کرنی بھی آتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






