خموشی کی زباں میں گفتگو کرنی بھی آتی ہے

Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 خموشی کی زباں میں گفتگو کرنی بھی آتی ہے
ہمیں اشکوں سے شرح ارزو کرنی بھی آتی ہے

فقط ہاتھوں سے مہندی کو رچانا ہی نہیں آتا
انھیں ہر آرزو میری لہو کرنی بھی آتی ہے

نہیں دشوار کوئی ، منزل مقصود کا ملنا
سفر در پیش ہو ، تو جستجو کرنی بھی آتی ہے

ادب مانع ہے ، ورنہ بارگاہ ناز میں جا کر
ہمیں ہر بات ان کے روبرو کرنی بھی آتی ہے

کہیں ایسا نہ ہو گھبرا کے وہ محفل سے اٹھ جائیں
کہ اس ناچیز کو کچھ ہاؤہو کرنی بھی آتی ہے

کسی کے مرتبے کا پاس ہے وقت سخن لازم
تمھیں واعظ کسی سے گفتگو کرنی بھی آتی ہے

بہا کر خون دل ، ارمان سب اپنے لہو کر کے
ترے کوچے کی مٹی سرخرو کرنی بھی آتی ہے

جناب شیخ سے ہے مختلف اپنی قدح نوشی
بحمد اللہ عباد بے وضو کرنی بھی آتی ہے

نصیر ! اپنوں کی عزت لوگ کرتے آئے ہیں ، لیکن
وہ ہم ہیں جن کو تعظیم عدو کرنی بھی آتی ہے

Rate it:
Views: 767
12 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL