خواب ۔۔۔۔۔ !
Poet: maria ghourri By: maria ghourri, haroonabadیقین مانو عذاب دیکھے ہیں
جب سے تیرے خواب دیکھے ہیں
کھولے جب بند محبت نامے
ہر صفحے پہ سوکھے گلاب دیکھے ہیں
اک تیری چاہ کر کے دیکھ کیا ظلم کیا
لمحے اپنے بیتاب دیکھے ہیں
جن کا کوئی حساب نہیں ہوتا
ایسے اعمال بےے حساب دیکھے ہیں
تقدیر سے مٹا کے تیرے نشاں
عجب لکیروں کے جواب دیکھے ہیں
رات کی وحشتوں سے کر کے دوستی
روٹھے مہتاب دیکھے ہیں
کر کے محبت اک انسان سے ماریہ
دوغلے احباب دیکھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








