خواب آنکھوں کو جگاتے تو کوئی بات بھی تھی
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaخواب آنکھوں کو جگاتے تو کوئی بات بھی تھی
دل میں ہلچل سی مچاتے تو کوئی بات بھی تھی
مانا ہم سے تو کوئی بات بنائے نہ بنے
آپ ہی بات بناتے تو کوئی بات بھی تھی
چھوڑ کر جانے کی یہ ریت پرانی ہے بہت
آپ آ کر نہیں جاتے تو کوئی بات بھی تھی
آج ٹوٹا ہے یقیں، بھیگ گئی ہیں پلکیں
ہم جو خوش ہو کے دکھاتے تو کوئی بات بھی تھی
وعدہ وصل تو دستور پرانا ٹھہرا
لوگ اس کو جو نبھاتے تو کوئی بات بھی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






